شیخ طریقت سے بیعت اور اسکا ثبوت

پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے کلک کریں۔
Click to download the PDF.

شیخ طریقت سے بیعت اور اسکا ثبوت


متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقُوا وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُوْلَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ وَلَا تَعْصُوا فِي مَعْرُوفٍ فَمَنْ وَلَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوْقِبَ فِي الدُّنْيَا فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ثُمَّ سَتَرَهُ اللهُ فَهُوَ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ وَإِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ•"

فَبَا يَعْنَاهُ عَلَى ذَلِكَ .

صحیح البخاری : رقم الحدیث 17

ترجمہ : حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ جو بدری صحابی ہیں اور بیعت عقبہ والی رات بارہ نقیبوں میں سے ایک نقیب تھے ، سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں فرمایا: ( ان امور پر ) میری بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گے،

چوری نہ کرو گے،

زنانہ کرو گے،

اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے،

نہ کوئی ایسا بہتان باند ھو گے جو تم نے اپنے ہاتھ اور پاؤں کے درمیان گھڑ لیا ہو

اور نہ کسی بھلے کام میں نافرمانی کروگے،

پس جس نے اس (عہد ) کو پورا کیا تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے ، جس نے ان امور میں سے کسی کا ارتکاب کیا اور دنیا ہی میں اس کو سزا مل گئی تو یہی سزا اس گناہ کا کفارہ بن جائے گی اور جس نے ان امور میں سے کسی کا ارتکاب کیا پھر اللہ نے ( دنیا میں ) اس کی پردہ پوشی کی تو اس کا معاملہ اللہ کے سپر د ہے ، اگر اللہ چاہے گا تو بخش دے گا اور اگر چاہے گا تو سزا دے گا۔ چنانچہ ہم نے ان امور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔

فائدہ: جس طرح طبیب اور ڈاکٹر کے نسخہ پر عمل اور بتائی ہوئی پر ہیز کی رعایت کرنے سے انسان جسمانی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے، اسی طرح شیخِ طریقت کی بتائی ہوئی ہدایات اور فرمودات پر عمل پیرا ہو کر انسان روحانی بیماریوں سے بچ جاتاہے

بیعت کا مقصد ان بیماریوں کا علاج کرانا ہے جو باطنی و روحانی طور پر انسان پر اثر انداز ہوتی ہیں،

عہد نبوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت ہوتی تھی اور اب آپ کے نائبین کی بیعت ہوتی ہے،

مردوں کی طرح خواتین بھی بیعت کر سکتی ہیں مگر ان کا طریقہ بیعت مردوں کی طرح نہیں ہے،

لہذا با شرع، متقی و پرہیز گار اور مجاز طریقت شیخ سے تعلق جوڑیے،

اس کی ہدایات پر عمل کیجیے اور تقویٰ و پرہیز گاری سے بھر پور زندگی کا لطف اٹھائیے،


شیخ طریقت سے بیعت اور اسکا ثبوت pdf